کنیکٹوٹی کی صورتحال 2015: عالمی انٹرنیٹ رسائی پر ایک رپورٹ

کنیکٹوٹی کی صورتحال 2015: عالمی انٹرنیٹ رسائی پر ایک رپورٹ، Facebook کی طرف سے منعقد کردہ دوسرا سالانہ مطالعہ عالمی انٹرنیٹ کنیکٹوٹی، 2014 کے بعد سے اس میں آئی تبدیلی، اور ہم نئی بصیرتیں جنریٹ کرنے کے لئے شناخت کردہ ڈیٹا کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں، اس پر ایک قریبی نظر ڈالتا ہے۔

2015 کے اختتام پر، اندازوں کے مطابق 3.2 ارب لوگ آن لائن تھے۔ یہ اضافہ (2014 میں 3 ارب سے زیادہ) جزوی طور پر زیادہ کفایتی ڈیٹا اور 2014 میں بڑھتی ہوئی عالمی آمدنی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں، کنیکٹوٹی میں تقریباً 200 سے 300 ملین سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

حالانکہ ترقی کے لحاظ سے یہ مثبت خبر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ، 4.1 ارب لوگ 2015 میں بھی انٹرنیٹ صارفین نہیں تھے۔

انٹرنیٹ تک رسائی کی چار اہم رکاوٹوں میں یہ شامل ہیں:

  • دستیابی: رسائی کے لئے درکار ضروری انفراسٹرکچر کی قربت۔
  • استطاعت: آمدنی کی نسبت رسائی کی لاگت۔
  • مناسبت: رسائی کے لئے وجہ، جیسے کہ بنیادی زبان کا مواد۔
  • آمادگی: رسائی کی صلاحیت، بشمول مہارتیں، آگاہی اور ثقافتی قبولیت۔

کنیکٹوٹی کی رکاوٹوں کا ازالہ کرنے کے لئے، کارپوریشنز، حکومتوں، غیر حکومتی اداروں اور غیر منافع بخش تنظیموں کو عالمی کنیکٹوٹی کی صورتحال پر زیادہ درست ڈیٹا جمع کرنا جاری رکھنے اور اس ڈیٹا کو جمع، رپورٹ اور تقسیم کرنے کے عالمی معیار تیار کرنے کے لئے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک مثال کے طور پر، 20 ممالک کی آبادی تقسیم ظاہر کرنے والے تفصیلی نقشے بنانے کے لئے Facebook کولمبیا یونیورسٹی کے مرکز برائے بین الاقوامی زمینیات معلومات نیٹ ورک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ یہ نقشے نئی مشین مطالعہ تکنیک کا استعمال کر کے تیار کیے گئے ہیں اور آج تک دستیاب آبادی کی تقسیم اور آبادکاریوں کے درست ترین تخمینے ظاہر کرتے ہیں۔


خاکہ 1A: کینیا میں ایک ساحلی علاقے کی موجودہ آبادی کی تقسیم (عالمی ڈیٹا سیٹ کی گرڈڈ آبادی)۔


خاکہ 1B: خاکہ 1A میں دکھائے گئے یکساں علاقے کی فریق ثالث سیٹلائٹ تصاویر کی عمل کاری کی بنیاد پر آبادی کی تقسیم کا نیا Facebook تخمینہ۔

اس ڈیٹا سے ہمیں اس بات کی زیادہ تفصیلی مفاہمت حاصل ہوگی کہ آبادیاں کس طریقے سے منتشر ہیں، لہذا حکومتیں اور دیگر، نقل و حمل سے لے کر حفظان صحت اور تعلیم تک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے سکتے ہیں۔ اس سے ایمرجینسی اور دیگر آفات کے دوران تیز ردعمل کرنے اور ترقی کے ماحولیاتی تاثر کے ہمارے فہم کو مطلع کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

آبادی کی تقسیم کے ڈیٹا سے Facebook’s کی کنیکٹوٹی لیب کی رہنمائی میں مدد ملے گی۔ اس سے فوقیت دینے کے لئے پراجیکٹ کی اقسام کی شناخت کرنے اور ہدف پیش رفت کی معاوت کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سال بعد میں، Facebook آبادی کے تفصیلی تخمینوں کو اوپن سورس کر دے گا۔

صنعت اور اس سے باہر کے لوگوں کے ساتھ وسیع ہم کاری کے ساتھ ساتھ کنیکٹوٹی کی صورتحال جیسی رپورٹس کے نشونما کی معرفت، ہم امید کرتے ہیں کہ رسائی کی اہم رکاوٹوں کا ازالہ کریں گے اور جلد ہی اس ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کر دیں گے۔

کنیکٹوٹی کی صورتحال کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھیں۔

ڈیٹا اسسٹڈ آبادی کی تقسیم کی نقشہ کاری کے بارے میں یہاں اور یہاں مزید پڑھیں۔

مزید مراسلے

Facebook © 2017 Powered by WordPress.com VIP